Drought

قحط/خُشک سالی

جب سالوں اور مہینوں کسی علاقے میں پانی کی رسد میں کمی واقع ہو جائے تو یہ قحط سالی پر منتج ہوتی ہے۔ عام طور پر یہ اُس وقت ہوتی ہے جب کسی علاقے میں مستقل طور پر پانی کی رسد ایک طویل عرصے تک کم ہوتی رہے جو پورے متاثرہ علاقے کی کاشتکاری کو متاثر کرے۔ گوکہ قحط سالی سالوں پر محیط ہوسکتی ہے لیکن ایک مختصر عرصے کی قحط سالی بھی شدید مالی اور معاشی نقصانات کا باعث بن سکتی ہے۔ اس کا سب سے زیادہ اثر زراعت پر ہوتا ہے۔ بڑے پیمانے پر قحط سالی کا طویل عرصہ ہجرت کا بنیادی سبب رہا ہے۔ قحط سالی کا عرصہ ماحولیاتی، زرعی، سماجی، معاشی اور صحت کے معاملات کو متاثر کرتا ہے۔ اس کے اثرات مختلف طبقوں پر مختلف انداز میں پڑتے ہیں مثلاً وہ کاشتکار زیادہ متاثر ہوتے ہیں جن کے پاس کوئی دوسرا ذریعۂِ معاش نہیں ہوتا۔ قحط سالی کی وجہ سے نہ صرف پانی کی مقدار میں کمی واقع ہو جاتی ہے بلکہ پانی میں مختلف نقصان دہ ملاوٹیں شامل ہوجاتی ہیں جس کی وجہ سے نقصانات کی درج ذیل صورتحال پیدا ہوجاتی ہے۔ * فصلوں کی پیداوار کم ہوجاتی ہے اس کے ساتھ ہی مویشیوں کی افزائش بھی متاثر ہوتی ہے۔ * تیز ہواؤں کی وجہ سے بے تحاشہ گردوغبار ہوتا ہے جو خود زمین کی خرابی کی ایک علامت ہے۔ *فصلوں کے لئے پانی کی کمی کی وجہ سے قحط کا خدشہ ہونا۔ *خشکی اور پانی کے جانوروں کی افزائش میں کمی۔ *انسانوں اور حیوانوں میں پانی کی کمی کی وجہ سے مختلف بیماریاں۔ *بڑے پیمانے پر لوگوں کی ہجرت ۔ * بجلی کی پیداوار اور ترسیل میں کمی۔ * صنعتی استعمال کے لئے پانی کی کمی۔ *سانپوں اور ان کے ڈسنے کے واقعات میں اضافہ۔ * سماجی بے چینی۔ * قدرتی وسائل بالخصوص پر پانی اور غذا پر جنگ۔ دورِ حاضر کے لوگ قحط سالی کے خطرے سے آسانی سے بچ سکتے ہیں اگر نہری نظام کو بہتر کیا جائے اور فصلوں کی پیداوار میں ردّوبدل کیا جائے۔